پاکستان رہائی تحریک Pakistan Rehai Tehreek

پاکستان رہائی تحریک

پاکستان میں سویلین جمہوریت کی بحالی کا منشور

Manifesto for the Restoration of Civilian Democracy in Pakistan

یہ اصل انگریزی منشور کا اردو ترجمہ ہے۔ Read the original in English

تحریک میں شامل ہوں

تمہید

پاکستان ایک جمہوری ریاست کے طور پر قائم ہوا تھا۔ اس کا آئین حاکمیت عوام کو سونپتا ہے، جسے آزادانہ طور پر منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے، اور مسلح افواج سویلین اختیار کے ماتحت ہیں۔ سیاست، ججوں کی تقرری، انتخابی عمل، میڈیا اور ریاستی اداروں کے انتظام میں فوج کی بار بار مداخلت نے اس وعدے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ چھبیسویں ترمیم (۲۰۲۴) اور ستائیسویں ترمیم (۲۰۲۵)، اور ان کے بعد کے وہ اقدامات جنہوں نے اختیارات فوجی اعلیٰ کمان کے ہاتھ میں مرتکز کیے اور متوازی عدالتی ڈھانچے قائم کیے، آئین پسندی سے مزید پسپائی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

پاکستان میں یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ فوج نے طویل عرصے سے خود کو ”ریاست“ کے مترادف کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس مساوات کو فوج پر تنقید، سویلین بالادستی کے مطالبات، یا آئینی حقوق کی وکالت کو خود ریاست پر حملہ قرار دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم اس مساوات کو مسترد کرتے ہیں۔ ریاست آئین کے تحت پاکستان کے عوام ہیں؛ مسلح افواج اس ریاست کا ایک ادارہ ہیں، اس کی مالک نہیں۔

وہ سرکاری بیانیے جو سیاسی اختلاف، پرامن احتجاج، صحافت یا انسانی حقوق کے کام کو بغاوت، ریاست مخالف سرگرمی یا دہشت گردی قرار دیتے ہیں، جوں کے توں قبول نہیں کیے جاتے۔ اس منشور میں جن افراد کا نام لیا گیا ہے — پی ٹی آئی کے سیاسی قیدی، ماہ رنگ بلوچ، ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما — وہ تشدد میں ملوث نہیں رہے۔ اس لیے ہم متنازع سرکاری دعووں کو طے شدہ حقیقت تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں بھی ظلم منظم ہو جائے، قانون کی حکمرانی کی جگہ فسطائیت لے لے اور پرامن راستے بند ہو جائیں، وہاں لوگ آخرکار ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔ یہ انجام کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہ تحریک اس انجام کو روکنے کی ہماری آخری، سوچی سمجھی کوشش ہے۔ یہ پرامن اور آئینی ذرائع سے تبدیلی لانے کا آخری موقع ہے، اس سے پہلے کہ حالات سب کے قابو سے باہر ہو جائیں اور پورا ملک اس کی قیمت چکائے۔

ہم ایک غیر متشدد، شہریوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک کا اعلان کرتے ہیں تاکہ آئین کی بالادستی بحال ہو، فوج اپنے پیشہ ورانہ کردار پر واپس جائے، ایک آزاد عدلیہ کی تعمیرِ نو ہو، آزاد اور منصفانہ انتخابات یقینی بنیں، ان بنیادی آزادیوں کی ضمانت دی جائے جن کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی، شہریوں کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات کا ہتھیار کے طور پر استعمال ختم ہو، اور سیاسی سرگرمی کی بنا پر قید تمام افراد کو رہائی ملے۔

بنیادی مطالبات

۱۔ سویلین بالادستی اور فوج کی بیرکوں میں واپسی

مسلح افواج سویلین کمان کے تحت خود کو بیرونی دفاع اور قانونی طور پر مجاز داخلی سلامتی کے کردار تک محدود رکھیں گی۔ فوج کی ہر قسم کی سیاسی مداخلت، انتخابی انجینئرنگ، میڈیا مینجمنٹ، معاشی فیصلہ سازی اور اداروں پر قبضہ ختم ہوگا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا ڈھانچہ اور اس سے وابستہ ہر وہ استثنیٰ جو فوجی قیادت کو عام قانون اور سویلین نگرانی سے بالاتر رکھتا ہے، واپس لیا جائے گا۔ فوج کو ریاست کے مترادف قرار دینے کی روش ختم ہوگی۔

۲۔ آزاد عدلیہ کی بحالی

چھبیسویں ترمیم اور اس کے بعد کی ہر اس آئینی ترمیم کی فوری منسوخی یا واپسی جس نے ججوں کی تقرری کا طریقہ بدلا، چیف جسٹس کی مدت کو سیاسی عمل کے ذریعے محدود کیا، سپریم کورٹ کے ابتدائی دائرۂ اختیار کو ختم یا محدود کیا، سیاسی اثر کے تحت آئینی بنچ بنائے، یا ایسی متوازی عدالتیں قائم کیں جو سپریم کورٹ کے اختیار کو کمزور کرتی ہیں۔ ججوں کی تقرری کا نظام دوبارہ ایسا ہوگا جس میں جج فیصلہ کن اکثریت میں ہوں اور سنیارٹی کے اصول کا احترام کیا جائے۔ عدالتیں انتظامیہ یا فوج کی انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر آئین کی تشریح کرنے میں آزاد ہوں۔

۳۔ آزاد اور منصفانہ انتخابات

ہر سیاسی جماعت اور ہر اہل فرد کو انتخاب لڑنے کا غیر مشروط حق حاصل ہوگا۔ کسی جماعت یا امیدوار کو انتظامی یا جبری طریقوں سے نااہل قرار نہیں دیا جائے گا، اس کا انتخابی نشان نہیں چھینا جائے گا، اور نہ ہی اسے مہم چلانے سے روکا جائے گا۔ الیکشن کمیشن حقیقی آزادی کے ساتھ کام کرے گا۔ نتائج کو انتخابات کے بعد کی انجینئرنگ کے بغیر تسلیم کیا جائے گا۔ بین الاقوامی اور ملکی مبصرین کو آزادانہ رسائی دی جائے گی۔ انتخابات کے انعقاد، نگرانی یا نتائج میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

۴۔ تمام ریاستی اداروں پر سویلین کنٹرول

خفیہ ادارے، پولیس، بیوروکریسی، سرکاری شعبے کے کاروباری ادارے اور ریگولیٹری ادارے سویلین وزرا اور پارلیمانی نگرانی کے تحت کام کریں گے۔ کوئی غیر منتخب ادارہ پالیسی، تقرریوں یا انتخابات پر ویٹو کا اختیار استعمال نہیں کرے گا۔

۵۔ اظہارِ رائے کی آزادی، صحافت کی آزادی، اور پرامن اجتماع کا حق

ہر شہری کو گرفتاری، گمشدگی، یا آن لائن یا آف لائن ہراسانی کے خوف کے بغیر سیاسی رائے کا اظہار کرنے اور حکومت، فوج، عدلیہ اور سیاسی جماعتوں پر تنقید کرنے کا غیر مشروط حق حاصل ہوگا۔ صحافت سنسرشپ، لائسنس کی دھمکیوں، ریاست کی جانب سے منظم اشتہاری بائیکاٹ اور ملکیت پر قبضے سے آزاد ہو کر کام کرے گی۔ صحافیوں کو رپورٹنگ کی بنا پر اغوا نہیں کیا جائے گا، تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور ان پر مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ شہریوں کو پرامن عوامی اجتماعات، احتجاج اور مارچ منظم کرنے اور ان میں شرکت کا حق حاصل ہوگا۔ انٹرنیٹ کی مکمل بندش، موبائل سروس کی معطلی اور پرامن اجتماعات کے خلاف پیشگی طاقت کا استعمال ممنوع ہوگا۔ اجتماعات کے اجازت نامے مواد سے قطع نظر، غیر جانبدارانہ بنیاد پر جاری کیے جائیں گے۔

۶۔ بغاوت، ”ریاست مخالف“ اور دہشت گردی کے الزامات کے ہتھیار کے طور پر استعمال کا خاتمہ؛ تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی

ریاست شہریوں کے خلاف محض سیاسی سرگرمی، پرامن احتجاج، صحافت، انسانی حقوق کی وکالت، یا حکومتی یا فوجی پالیسی پر تنقید کی بنا پر بغاوت، ریاست مخالف سرگرمی، دہشت گردی، سائبر کرائم یا اسی طرح کے الزامات کا استعمال بند کرے گی۔ جب کوئی حقیقی پرتشدد جرم سرزد نہ ہوا ہو تو ایسے الزامات عام فوجداری قانون کا متبادل نہیں ہوں گے۔ وہ سرکاری بیانیے جو غیر متشدد سیاسی سرگرمی کو ”دہشت گردی“ یا ”ریاست مخالف“ سرگرمی میں بدل دیتے ہیں، حتمی تسلیم نہیں کیے جائیں گے۔

۲۹ اکتوبر ۲۰۲۶ کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے انسانی حقوق کے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال کی سزا اس کی واضح مثال ہے: ایک رکاوٹ ہٹانے کے عمل پر دہشت گردی کا مقدمہ چلا کر سزا دی گئی۔

محض سیاسی سرگرمی، پرامن احتجاج، صحافت یا انسانی حقوق کی وکالت کی بنا پر قید تمام افراد کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے گا، یا آزاد عدالتوں کے سامنے مکمل قانونی تقاضوں کے ساتھ ان کا فوری اور کھلا مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ تمام سیاسی قیدی، بلوچستان میں حقوق کی کارکن ماہ رنگ بلوچ، انسانی حقوق کے وکلا بشمول ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ، عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما اور ارکان، اور اسی طرح کے سیاسی الزامات کے تحت قید ہر دوسرا شخص شامل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی تشدد میں ملوث نہیں رہا۔ کسی کو سیاسی وابستگی، نسل یا اختلافِ رائے کی بنیاد پر قید نہیں رکھا جائے گا۔ پاکستان بھر میں زیرِ حراست تمام لاپتہ افراد کو بلا تاخیر کسی مجاز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہیں تمام قانونی اور آئینی حقوق کی ضمانت دی جائے، بشمول وکیل تک رسائی، تشدد سے تحفظ اور منصفانہ سماعت۔ ہر شخص کو جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جائے۔ صرف ایک مجاز عدالت ہی ثبوت کی بنیاد پر اور قانونی تقاضے پورے کر کے انہیں مجرم قرار دے سکتی یا سزا سنا سکتی ہے۔

اصول

  • عدم تشدد اور قانون کا احترام، چاہے قانون نامکمل ہو۔
  • شمولیت: یہ تحریک شہریوں کی ہے۔
  • فوج ریاست نہیں ہے۔ فوج، یا کسی بھی دوسرے ادارے پر تنقید، ریاست پر حملہ نہیں ہے۔
  • آزادیٔ اظہار اور پرامن سیاسی سرگرمی پر قید نہ کیے جانے کا حق اقتدار والوں کی عطا کردہ مراعات نہیں؛ یہ جائز حکومت کی شرائط ہیں۔
  • یہ تحریک آخری پرامن متبادل ہے۔ جہاں منظم ظلم اور قانون کی حکمرانی کا خاتمہ کوئی اور راستہ نہیں چھوڑتا، وہاں معاشرے بارہا ہتھیاروں کی طرف گئے ہیں۔ ہم پاکستان کے لیے یہ انجام قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ابھی پرامن تبدیلی ہی اس مستقبل سے بچنے کا واحد راستہ ہے جس میں سب ہار جائیں۔

عمل کی دعوت

ہم تمام صوبوں کے وکلا، طلبہ، مزدور یونینوں، خواتین کی تنظیموں، کسانوں، کاروباری انجمنوں، صحافیوں اور عام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو آمریت کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لیے اس تحریک میں شامل ہوں۔ ہم ان سیاسی جماعتوں کو، جو ان اصولوں کو تسلیم کرتی ہیں، برابر کی حیثیت سے شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔